چھ ایسی عادتیں جو آپ کو معاشرے میں ناپسندیدہ بنا دیتی ہیں۔

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ یہ معاشرے میں رہنا پسند کرتا ہے اور دوسرے لوگوں سے ربط و ضبط  رکھنا پسندکرتا  ہے۔ مگر بعض اوقات انسان میں کچھ ایسی عادات ہوتی ہیں جو اٗسے معاشرے میں غیر مقبول اور نا پسندیدہ  بنا دیتی ہیں اور ان کی وجہ سے لوگ اُس سے کترانے لگتے ہیں۔ انسان کو اُن عادات کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی اُسے یہ علم ہوتا ہے کہ وہ بہت آسانی سے ان عادات سے پیچھا چُھڑوا سکتا ہے۔لہذا اپنی شخصیت میں بہتری لانے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے لئے تھوڑا وقت نکال کر اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ کہیں ہم میں تو کوئی ایسی عادت نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے لوگ ہم سے دُور بھاگتے ہوں۔

۔ شیخی خوری: 1

 شیخی خوری متفقہ طور پر ہرمعاشرے میں  ناپسندیدہ عادت مانی جاتی ہے۔ کیونکہ شیخی خور انسان خود سے ایسی چیزیں منسوب کر رہا ہوتا ہے جو حقیقت میں نہیں ہوتیں یا وہ اپنی ذرا ذرا سی بات کو بڑھا چڑھا  کے بیان  کر رہا ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے تئیں سب کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔اکثر اوقات ارد گرد کے لوگ اُس کی حقیقت جانتے ہوتے ہیں مگر اُسے جان بوجھ کر بانس پر چڑھاتے ہیں۔ مگر درحقیقت یہ عادت اُسے معاشرے کی نظروں سے گرا دیتی ہے۔

۔ بلا ضرورت اور حد سے زیادہ سنجیدگی:2

اگرچہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے سنجیدگی سے کوشش کرنا لازمی امر ہے۔ مگر بلا ضرورت ، بلا وجہ اور حد سے زیادہ سنجیدگی بھی آپ کو آپ کے ساتھیوں میں ناپسندیدہ بنا دیتی ہے۔اپنی زندگی میں توازن رکھیں۔ ضرورت کے وقت سنجیدگی دکھائیں۔ مگر نارمل زندگی میں اپنے ماحول میں گھل مل جائیں ۔ حس مزاح سے کام لیں اور اپنے ساتھیوں کے دکھ سکھ بانٹیں۔ ہر وقت  اپنے گرد سنجیدگی کا خول چڑھائے رکھنے سے آپ اپنے ماحول سے کٹ جاتے ہیں۔  آپ کے ساتھی آپ سے کترانے لگتے ہیں اور آپ سے کام کی بات بھی کم کم کرتے ہیں۔ جو کہ بلا شبہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔

۔ دوسروں کی گفتگو پر توجہ نہ دینا :3

 بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ دوران گفتگو اپنے مخاطب کی کسی بات کا تجزیہ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ اُس نے کیا کہا اور اُسے کیا کہنا چاہیے تھا اور اُس کی باقی باتوں پر دھیان نہیں دے پاتے۔اُس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ بعد میں آپ کے مخاطب نے کیا کہا تھا ۔ اس وجہ سے آپ اُس سے کوئی سوا ل نہیں کر پاتے اور وہ اپنی تضلیل محسوس کرتا ہے۔ لہذا اپنے مخاطب کی بات مکمل دھیان سے سنیں اور اس سے باقاعدہ سوالات کر کے اُس کے مطمع نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

۔ دوسروں پر چیخنا چلانا۔:4

آپ کسی اچھے عہدے پر ہیں اُور آ پ کے ساتھ ایک ٹیم کام کر رہی ہے تو آپ کی شخصیت اُس ٹیم پر بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر آپ متوازن شخصیت کے مالک ہیں تو آپ کی ٹیم آپ پر اعتماد کرے گی اور اگر آپ جذباتی طور پر متوازن نہیں ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ آپ کی ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ کام کرتے ہو ے غلطی ہونے کے صورت میں اپنے ساتھیوں پر چیخنے چلانےنے سے گریز کریں۔ اور تحمل سے صورت حال کا  جائزہ لیں ۔  اور مسلئے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں اگر آپ کا مقام بڑا ہے تو آپ کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے۔  ورنہ آپ اپنے دوستوں اور ساتھی ورکرز کی نظر میں اپنا مقام کھو دیں گے۔

۔ دوران گفتگو اپنے موبائل فون کر طرف متوجہ رہنا۔:5

دوران گفتگو اپنے میسجز کا جواب دینا یا اپنے موبائل کو بار بار دیکھنا بھی آپ کے مخاطب پر منفی تاثر چھوڑتا ہے۔  اس سے ظاہر ہوتا ہے  کہ آپ اُس کی گفتگو کو سنجیدگی سے نہیں سن رہے۔ وہ آپ سے بد دل ہو جا تا ہے اور آپ پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور اپنے ماتحت ورکرز کے ساتھ بات کرتے ہو  احتیاط برتیں اور پوری توجہ سے اُن کی بات سن کر انہیں جواب دیں۔

۔ دوسروں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ باتیں شئیر کرنا۔:6

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ اپنے دل کی بات کہہ دینے سےرشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ مگر بہت زیادہ باتیں شئیر کرنا بھی نقصان دہ  ثابت ہو سکتا ہے۔  خاص طور پر ہر وقت اپنے مسائل کا رونا روتے رہنا دوسروں پر منفی تاثر چھوڑتا ہے۔ اس سے اجتناب کیجئے۔کبھی بھی دوسروں کے ساتھ اپنے ذاتی ، گھریلو مسائل شئیر مت کیجئے۔ نا ہی اپنی پوشیدہ غلطیوں کا اعتراف کیجئے۔ اگر آپ سے غلطی ہوئی ہے تو اللہ پاک سے اس کی معافی مانگیں۔ یا اُس غلطی سے جس کو نقصان  پہنچا یا تکلیف ہوئی اس سے معافی مانگیں۔ مگر آپ کے گنا ہ پر اگر اللہ پاک نے پردہ ڈالا ہو ا ہے تو خود کو خود رُسوا مت کیجئے۔ اس سے آپ اپنے سوسائٹی کی نظروں سے گر جائیں گے۔

 

 

Leave a Comment